Custom Google Translate Widget

دارالعلوم آگرہ ماضی سے حال تک


دار العلوم آگرہ ماضی سے حال تک
جہالت وبد عات سے گھری آبادی دنیاں کی تاریخی عمارت تاج محل کے شہر میں
مسلمانوں کے عقیدہ کے اصلاح اور قوم کے نونہالوں کی معیاری تعلیم ومثالی تر بیت کے لئے دار العلوم آگرہ کی بنیاد اللہ کے بھروسے پر ایک ویرانے میں رکھی ۔ اور ایک قافلہ دین کے دیوانوں کا اسے پروان چڑ ھانے میں تن من دھن سے جیت گیا۔
الحمد اللہ دار العوم آگرہ روز اول سے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، روز بروز طلبہ کی برھتی تعداد کی وجہ سے ادارے کی دو شاخیں بھی قائم ہو چکی ہیں۔ ایک شاخ مدرسہ بلال ہے جو شہر میں ہی دار العلوم سے سو میٹر کے فاصلہ پر ہے جہاں صرف حفظ کی تعلیم کا نظم ہے دوسری شاخ معہد عثمان بن عفان بنجارو ں کا نگلہ جوشہر سے پچیس کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک بچھڑا ہوا علاقہ ہے۔